رہن شدہ چیز سے منافع حاصل کرنا

سوال: ایک شخص نے اس شرط پر زمین رہن رکھی کہ اس میں زمین سے جو منافع حاصل ہوگاوہ مرتہن کا ہوگا جس کے پاس رہن رکھی ہے وہ اس میں کھیتی کرے گا اور اس کی فصل وہی رکھے گا یا راہن اور مرتہن دونوں منافع تقسیم کریں شریعت کی روشنی سے جائز ہے یا نہیں۔

Staff April 14, 2015

جواب: رہن شدہ چیز سے منافع حاصل کرنا ناجائز ہے درمختار کے حاشیہ الطحطاوی میں ہے فی شرح الملتقی انہ یحرم الانتفاع بلا اذن وبہ یکرہ کما فی المضمرات وغیرھا انتہیٰ۔ اسی میں اور مذکور ہے والغالب من احوال الناس انھم انما یرید ون عند الدفع الانتفاع ولولاہ لما اعطاہ الدرھم وھذ بمنزلہ الشرط لان المعروف کالمشروط وھو بھا یعین المنع۔ اس سے معلوم ہوا کہ انتفاع بلا اذن حرام اور مع الاذن مکروہ تحریمی ہے خواہ شرط لگائی جائے جیسا کہ بعض لوگ رہن نامہ میں لکھا لیتے ہیں اور بعض محتاط اگرچہ شرط نہیں لگاتے مگر مقصود انتفاع ہوتا ہے جیسا کہ موجودہ زمانے کا دستور ہے (فتاویٰ عبدالحئی ص:۳۰۰)

#1

This question is now closed