محرم میں سواری، اکھاڑے، سڑکوں پر لنکر لٹانا

سوال: کیا فرماتے ہیں کہ (۱) محرم کے مہینہ میں سواری ، بٹھانا یا اٹھانا جائز ہے یا نہیں؟ (۲) کیا محرم کے مہینہ میں شیر بننا جائز ہے یا نہیں؟ (۳) اکھاڑا نکالنا جائز ہے یا نہیں؟ (۴) کیا محرم کے مہینہ میں تعزیہ بنانا جائز ہے (۵) کیا محرم کے مہینہ میں سڑکوں پر لنگر لٹانا جائز ہے یا نہیں؟
بابو خان ولد رشید خان

Staff April 14, 2015

جواب: صورت مسﺅلہ میں مندرجہ بالا چیزوں کا شریعت میں کہیں ثبوت نہیں (۱) سواری اٹھانا (۲) شیر بننا (۳) اکھاڑے نکالنا سب کام ناجائز ہیں (۴) تعزیہ بنانے کی رسم سراسر ناجائز ہے ان میں بعض چیزیں حرام اور بعض افعال شرک اور بعض بدعات محدثہ ہیں یہ رسم واجب الترک ہے پس تعزیہ کا بنانے والا اسے رکھنے والا اس میں دامے درمے قدمے مدد کرنے والا (اس پر شیرینی چڑھانے والا فاتحہ دلانے والا ) سب گنہگار مستحق عذاب نار ہیں۔ کیونکہ یہ سب بدعات اور اعانت علی المعصیت ہے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ولاتعاونوا عل الاثم والعدوان اس لئے چاہئے کہ اس بدعت سے بموجب حدیث ایاکم ومحدثان امور سے بچیں اور دور رہیں اور کسی طرح سے بھی اس میں شرکت نہ کریں (احیاءالعلوم ص:۹۷۱) (۵) نیز خاص کر سڑکوں پر لنگر لٹانا اس کی بھی شریعت میں کوئی اصل نہیں ہاں حدیث سے اتنا ثابت ہے کہ یوم عاشورہ کو اپنے اہل وعیال پر رزق یعنی کھانے پینے کی فراخی کرنا مسنون ہے (کفایت المفتی ۱/۶۲۲،۸۲۲) ارشاد فرمایا رسول اللہ ﷺ نے جس شخص نے فراخی کی اپنے اہل وعیال پر خرچ میں عاشورہ کے دن فراخی کرے گا اللہ تعالیٰ اس پر (رزق میں) تمام سال (رزین وبیہقی وفی المرقاة قال العراقی لہ طرق بعضھم صحیح وبعضھا علی شرط مسلم) (بارہ مہینوں کے فضائل واحکام ص:۱۱)

#1

This question is now closed