محرم ودیگر مہینوں کا کھانا

سوال: گیارھویں شریف کا نیاز عبدالقادر جیلانیؒ کے نام کا کھانا سہ یوم چہاریوم چلہ بارہ وفات کا کھانا نیز محرم کا۔ سبیل مدارس دینیہ کے طالب علم کے لئے کھانا پینا درست ہے یا نہیں۔ اور اگر درست ہے جیسا کہ بعض مدارس کے اساتذہ کرام بھیجتے ہیں اور بچے کھاتے ہیں تو کیا ایسی جگہ بھی بھیجنا بھی درست ہوگا جہاں کے بارے میں صاف طور پر معلوم ہو کہ انکا یہ فعل صرف رضا عبدالقادر ہے تاکہ رضاءاللہ ہے۔ خلاصہ تحریر فرمائیں۔
عبدالوحید قریشی

Staff April 14, 2015

جواب: گیارھویں شریف کا نیاز اس طو رپر کیا جائے کہ نہ دن اور نہ تاریخ کی تخصیص کرے اور کھانا وغیرہ سامنے رکھ کر کچھ نہ پڑھے اور یہ عقیدہ نہ رکھے کہ حضرت ہماری مدد فرمائیںگے اور یہ نیت نہ رکھے اس عمل کی برکت سے ہمارے مال اور اولاد میں برکت وترقی ہوگی۔ محض یہ سمجھے کہ انہوں نے ہم پر احسان کیا کہ سیدھا راستہ کتابوں میں بتلا گئے۔ہم ان کو نفع پہونچاتے ہیں کہ ثواب سے ان کے درجات بلند ہوں گے بس اس طرح کرنے میں کوئی حرج نہیں اور اس کا کھانا بھی جائز ہے۔ (ماخوذ من امداد الفتاوی جلد۵ صفحہ ۱۰۳) اور اگر مذکورہ بالا شرائط مفقود ہوں تو اس کا کرنا اور اس کا کھانا دونوں حرام ہے۔ سہ یوم، چہار یوم، چلہ، بارہ وفات منانا ادلہ شرعیہ سے ثابت نہیں بلکہ فقہا نے ان کے بدعت ممنوعہ ہونے کی تصریح کی ہے۔ ویکرہ اتخاذ الضیافۃ من الطعام من اھل المیت لانہ شرع فی السرور لافی الشرور وھی بدعۃ مستقبحۃ روی الامام احمد وابن ماجہ باسناد صحیح عن جریر بن عبداللہ قال کنا نعد الاجتماع الی اھل المیت وصنعھم الطعام من النیاحۃ الخ وفی البزازیۃ ویکرہ اتخاذ الطعام الاول والثالث وبعد الاسبوع ونقل الطعام الی القبر فی المواسم واتخاذ الدعوۃ تقرأۃ القرآن وجمع الصلحا والقرا للختم او لقرأۃ سورۃ الانعام او الاخلاص (الی قولہ) ھذہ الافعال کلھا للسمعۃ والریافیحترز عنھا لانھم لایریدون بھا وجہ اللہ تعالیٰ الخ (شامی جلد ۱ صفحہ ۶۶۴) لہذا اس کا کھانا بھی شرعا ناجائز ہے نیز محرم کے سبیل کے متعلق حضرت تھانوی فرماتے ہیں بسبب بردن آں طعام پیش تعزیہ ہادنہا دن پیش تعزیہ وغیرہ تمام شب بلکہ پیش قبور حقیقتاً ہم تشبہ بکفار وبت پرستاں می دارد پس ازیں جہت کراہت پیدا می کند (امداد الفتاویٰ جلد ۵ صفحہ ۵۳۳، بحوالہ فتاویٰ عزیزیہ ص:۷۱)لہذا اس صورت میں دینی مدارس کے طالب علم ہوں یاغیر طالب علم سب کا حکم برابر ہے اس کا کھانا ناجائز ہے اور خاص طو رسے ایسی جگہوں کا کھانا جہاں رضا غیر اللہ ہو حرام ہے اور ماھل بہ لغیر اللہ کے اندر داخل ہے فی الدر المختار اعلم ان النذر الذی یقع للاموات من اکثر العوام ومایوخذ من الدراھم والشمع والزیت الی ضرائح الاولیائ الکرام تقربا الیھم فھو بالاجماع باطل وحرام لوجوہ منھا انہ نذرا المخلوق والنذر للمخلوق لایجوز لانہ عبادۃ والعبادۃ لاتکون لمخلوق ومنھا انہ ان ظن ان المیت یتصرف فی الامور دون اللہ تعالیٰ واعتقادہ ذلک کفر الی ان قال واخذۃ ایضاً مکروہ مالم یقصد الناذی قلت الی ذالک فی زماننا کما ھو ظاہر۔

#1

This question is now closed