Get Adobe Flash player

 مدرسہ جامعه اسلامیه عربیه بھوپال

جامعہ اسلامیہ عربیہ مسجد ترجمہ والی موتیا پارک بھوپال کی وجہ تسمیہ

اس مسجد کو نواب سکندر جہاں بیگم صاحبہ کے عہد میں مدارالمہام جناب مولوی جمالددیں صاحب کے خاندان کے کیسس فرد نے تعمیر کرایا تھا، اس مسجد کے شمالی سمت میں واقع عمارت میں مدارالمہام صاحب کا دفتر بھی لگتا تھا، بعد میں کچھ عرصہ اسی عمارت میں مدرسہ احمدیہ جاری رہا،~ یہاں ٥٠ سال تک نواب شاہجہاں بیگم صاحبہ کے عہد میں حضرت حافظ مفتی عبدالعزیز صاحب (رحمتہ اللہ) نے ترجمہ قران بیان فرمایا، ان ہی سے حضرت مفتی عبد الہادی صاحب نے بھی بخاری شریف پڑھی تھی، مزید پڑھیں

صدر کا پیغام

آج کے اس آزمائشی دور میں امت مسلمہ کا یہ فرض ہے کہ وہ خود کو دینی تعلیمات سے پوری طرح وابستہ کرلے۔ دینی اور دنیوی تمام معاملات میں اسلام کی جیتی جاگتی تصویر اور نمونہ بن جائے، ایسی تصویر اور نمونہ کہ ساری دنیا اسے رشک کی نگاہوں سے دیکھنے لگے اور اس کی ذات اپنے اپنے غیر مسلم بھائیوں کی نظروں میں قابل احترام بن جائے۔ ساری دنیا کو آج حق اور روحانیت کی شدید تلاش ہے۔ اسلام کے دامن میں اسے نورانیت نظر آرہی ہے اور قرآنی تعلیمات دلوں میں گھر کرتی جارہی ہیں ۔ آپ یقین رکھیں وہ دن زیادہ دور نہیں ہے کہ ’’ورایت الناس یدخلون فی دین اللہ افواجا‘‘ اور تم دیکھوگے لوگوں کو داخل ہوتے ہوئے اللہ کی دین میں جوق در جوق کا روح پرور منظر آنکھوںکے سامنے ہوگا۔