Get Adobe Flash player

تعارف

جامعہ اسلامیہ عربیہ مسجد ترجمہ والی موتیاپارک بھوپال کی وجہ تسمیہ

اس مسجد کو نواب سکندر جہاں بیگم صاحبہ کے عہد میں مدارالمہام مولوی جمال الدین صاحب کے خاندان کے کسی فرد نے تعمیر کرایا تھا،اس مسجد کے شمالی سمت میں واقع عمارت میں مدار المہام صاحب کادفتر بھی لگتا تھا،بعد میں کچھ عرصہ اسی عمارت میں مدرسہ احمدیہ جاری رہا۔ اس مسجد کاپرانہ نام ’’پھوٹی اورکچھری والی مسجد‘‘تھا۔ یہاں۵۰سال تک نواب شاہجہاں بیگم صاحبہ کے عہد میں حضرت حافظ مفتی عبدالعزیز صاحب رحمۃاللہ(․․․․․․)نے ترجمہ قرآن بیان فرمایا، ان ہی سے حضرت مفتی عبدالہادی صاحب نے بھی بخاری شریف پڑہی تھی،اپنے وقت کے دیگر علماء کرام اور اہل اللہ سے خاص کر پیر حضرت ابو احمدصاحب سے بھی کافی نسبت تھی ،حضرت حافظ مفتی عبدالعزیز صاحب کے انتقال کے بعد مفتی عبدالہادی صاحب نے بھی اپنے استاذمحترم کی طرح اسی مسجد میں ۵۰؍سال تک ترجمہ تفسیر قرآن مجید بیان فرمایااسی نسبت اس مسجد کانام مسجد ترجمہ والی ہوگیا۔

جامعہ اسلامیہ عربیہ بھوپال کاقیام کاپس منظر

۱۸۵۷؁ء کے طوفانی انقلاب کے بعدجب ہندوستان میں مسلمانوں کے دین وایمان کو شدید خطرہ درپیش ہو چکا تھا ،اس وقت چند اکابر امید کی ایک کرن بن کر نمودار ہو ئے اور اپنی مخلصانہ محنتوں اورپر عزم جد وجہد کے ذریعہ شرک والحاد کی آندھیوں میں علوم ومعارف کاایک ایسا چراغ دیو بند کی سرزمین پر روشن کیا جو آج شمع ہدایت بن کر برصغیر کے ارض وسماء کو مینارہ نو ر بنائے ہو ئے ہے اور ایک عظیم اسلامی یونیورسٹی کی شکل میں پوری ملت اسلامیہ کے دلوں کی دھڑ کن بنکر طالنان علوم نبوت کو علم کی دولت کے ساتھ عمل صالح اوراخلا ق فاضلہ کی پاکیز ہ تربیت دینے میں مصروف ہے ۔چنا نچہ دنیا جانتی ہے کہ یہاں سے پڑھ کر نکلنے والوں میں جہا ں علمی وقار،خودداری ،عزت نفس اوراستغناء پایا جاتاہے وہیں ان میں خاکساری ،تواضع ،سادگی اورزہد وتقویٰ کے جذبات بھی ہو تے ہیں اور عشق الھٰی ومحبت رسول ﷺکا سوز وسازبھی۔اس نے حق کے معاملے میں کبھی مداہنت گوارہ نہیں کی اور کتاب وسنت کی روشنی میں جس با ت کو حق سمجھا علی الاعلان کہا ۔
جس طرح ۱۸۵۷؁ء میں وسائل کی قلت اور ایمان فروشوں کی غداری نے جذبہ ٔ جہاد سے سرشاراکابر دارالعلوم دیوبند کو انگریز ی قوت پر فتحیابی سے دور رکھا اور عیسائی ویہودی لابیوں نے پورے غور وخوض کے بعد دن میں گھوڑے کی پیٹھ اور رات کو مصلے پر سوار کے مصداق بوریہ نشیں مولویوں کو اس لڑائی کا سر چشمہ گردانا اور دیکھنے ہی دیکھتے انگریزوں نے علماء ،ادبا ء ،شعراء اور معلم رہنما ؤں پر قتل وغارت گری کا بازارگرم کرنا شروع کردیا اور مدارس کاوجود مٹایا جا نے لگا ،ایسے نازک دور میں ایک صاحب دل اور مرکزی فکر کے حامل ہیئت وحبثہ سے معمولی نظر آنے والے لیکن علوم نقلیہ وعقلیہ میں پہاڑ سے بھی زیادہ مضبوط حجۃ الاسلام حضرت مولانا قاسم نانوتوی کے شفاف قلب میں یہ پاکیزہ داعیہ پیدا ہوا کہ اسلامی تشخص اور مسلمانوں کی تہذیبی وثقافتی وراثت کے تحفظ کی خاطر ایک علمی ومز کزی دینی درسگاہ قیام ناگریز ہے ۔
۱۹۵۸؁ء میں حضرت مفتی عبدالرزاق خانصاحب مدظلہ دارالعلوم سے فارغ ہو کر بھوپال تشریف لائے ،آپ حضرت اقدس سید حسین احمد مدنی ؒ جیسیاساتذہ سے دیوبند کی نورانی علمی مجلس اور روحانی تعلیمی فضا اورشاندار تبلیغی چہار دیوار ی کے اندر علوم باطنی وظاہر ی حاصل کی تھی جس کی بنا ء پر آپ کے اندر علم دین کی ترویج واشاعت کا جذبہ کو ٹ کوٹ کر بھرا ہو تھا ۔آپ بھوپال آتے ہی علم کی خدمت کی ضرورت محسوس کی ،ماضی قریب میں اس ملک کی تقسیم کی وجہ سے ملت اسلامیہ کا شیرازہ بکھرگیا تھا ،سقوط حکومت اسلامی کے بعداس ماحول میں گھر گھر تعلیمی قرآن وحدیث ،ایمان واسلام کی روشنی پھیلانا بہت ہی ضروری تھا ،اس لیے آپ کا حساس اور جیتاجاگتا دل تڑپ اٹھا اور علماء کرام کے مشوروں سے مسجد ترجمہ والی میں باقاعدہ مدسرنومدرسہ کی بنیاد رکھنے کا خواب دیکھاتھا۔
جب حضرت فارغ ہوکر بھوپال تشریف لائے تواس وقت آپ کے سسرمحترم حکیم عبدالحمید صاحب اس ترجمہ والی مسجد میں امام تھے ،ان کے ایماء سے حضرت نے اس زمانے کے مفتی اعظم ،جامعہ احمدیہ کے سابق مہتمم، مفسرقرآن حضرت اقدس عبد الہادی صاحب رحمۃاللہ سے جامعہ کے قیام کے متعلق گفتگو فرمائی تو وہ بھی خوشی سے باغ باغ ہو اٹھے کیونکہ وہ بھی اس نیک کام(قیام جامعہ) کو برسوں سے کرنا چاہتے تھے لیکن ہزاروں مصروفیت اورا ہل ومخلص کارکنوں کے فقدان کے وجہ سے انکی سنہری خواب شرمندہ تعبیرنہیں ہوسکی لیکن حضرت نے جب اس خواب کو پوری کرنی چاہی تو فورا اس کی اجازت مرحمت فرمائی دی نیز انھوں نے بھی ہر طرح کی تعاون ومعاونت کی بھی پیشکش کی۔ساتھ ساتھ یہ بھی تاکید فرمایا کہ اس مسجد کو کبھی نہ چھوڑنا،یہ بڑی متبرک جگہ ہے ۱۰۰؍سال تک یہاں ترجمہ قرآن بیان ہواہے(اس لحاظ سے یہ مسجد ازہر ہند دارالعلوم دیوبند سے اس کاقدیم ہونا ثابت ہے) اس مسجد کے فلاں جگہ پر حضرت حافظ مفتی عبدالعزیز صاحب رحمۃاللہ جو ایک صاحب کشف وکرامت اور طے الارض کے عامل زبردست بزر گ تھے (ان کے متعلق یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ان قبضہ میں جنات بھی تھے ) ساتھ ساتھ زمانے کے متبحر عالموں میں شمار ہوتا تھاجو مولانا نواب صدیق حسن خاں کے ہم عصر تھے ،اسی زمانے میں مولانا نواب صدیق حسن خاں پر انگریزوں کی بغاوت کاالزام عائد ہوا اوروہ معتوب قرار پائے تونواب شاہجہاں بیگم صاحبہ کے درخواست پر موصوف نے دعافرمائی اوررات ورات طے الارض کی وظیفہ کے ذریعہ دہلی پہونچے اور ان کے خلاف سارے کاغذات اس دفتر سے نکل کر لے آئے ،جس کی وجہ سے ان کی گلوخلاصی ہوئی،انھوں نے خود جناب محمد رسول اللہ ﷺکو اس مسجد میں بیداری کے حالت میں کئی مرتبہ تشریف لاتے ہوئے زیارت کی ہے ۔

تاریخ قیام مدرسہ اسلامیہ عربیہ مسجد ترجمہ والی

چنانچہ۲۳؍شوال ۱۳۷۹ھ؁ بمطابق ۱۹۵۸ ؁؁بروز جمعرات کا دن ہندوستان کی اسلامی میں وہ مبارک ومسعود دن تھا جس میں بھوپال کی نوابی سرزمین بھوپال میں علوم اسلامیہ کی نشاۃ ثانیہ کا سنگ بنیاد رکھا گیا ،جس سادہ اور معمولی اورمعمولی طریقے سے اس پھوٹی گمنام مسجد میں یہ آغاز ہوا تھا ۔جس میں صرف چند بوریاں نشیں قدسی صفات کے چند کے معزز علماء کرام،مربیان عظام شخصیت مثلاحضرت اقدس مفتی عبدالہادی خانصاحب ،مولانا غلام یحیٰ صاحب ،مولانا ابراہیم خلیل صاحب ،مولوی بشیراللہ صاحب ،حکیم عبدالحکیم صاحب ،محترم مطیع اللہ صاحب․․․․․․․․․․ ․․․․․․․․․․․․․․وغیرہ حضرات کی موجود گی میں اس مدرسہ کی بنیاد ابتدائی ایک چھوٹا ننھاسا مکتب کی شکل ڈال دیاگیا،جس کو دیکھ کر یہ فیصلہ کرنا مشکل تھا کہ جس مکتب کاآغازاس بے سروسامانی سے ہو رہا ہے چند ہی سال کے بعد وہ علوم اسلامیہ کا ایم ․پی میں سب سے بڑامرکز بننے والاہے ،چنانچہ زیادہ مدت نہ گذری تھی کہ ایم․پی کونے کونے سے اور ہندوستان کے دور دراز خطوں سے کتاب اللہ وسنت رسول اللہ اورشریعت وطریقت کے طالبین یہاں جوق درجوق آنے شروع ہوگئے اوردیکھتے ہی دیکھتے یہ چھوٹی سی مسجد تنگ ہو گئی اسی وجہ سے اس پاس تعمیری سلسلہ چلنے کیاساتھ ساتھ آس پاس کے تین مسجدوں ’’موتی مسجد ،حقیقت خاں مسجد ،کیلے والی مسجد میں تعلیم کا شاندار سلسلہ چلتا رہا اورکچھ ہی عرصہ میں علم ودانش کی کرنوں نے برصغیر کے مسلمانوں کے دل ودماغ کونور ایمانی اور تہذیب اسلامی سے منور کردیا۔
اخلاص وللٰہیت نے تھوڑی ہی مدت میں صر ف ہندوستان ہی میں نہیں بلکہ بیرون ہند میں بھی اپنے علم کے دائرے وسیع کردئیے اورجوکام حکومتی سطح پر عظیم یونیورسٹیاں کروڑوں روپے کے بجٹ اوراقتدار کے زور وقوت سے نہ کرسکیں وہ کام معمولی پیسوں سے کردکھایا ۔اس میں کو ئی شک نہیں کہ اگر ایک طرف اس کے مقاصد میں کامیابی اوراستحکام کے لیے وقت کے بیشتر اولیاء عظام ،بزگان دین اورعلماء امت دعاء فرماتے ہیں تو دوسری طرف ہزاروں مسلمان اپنے گونا گوں مسائل کے ساتھ الجھنوں اورپریشانیوں کے باوجود اس کی ضروریات کی تکمیل میں قابل قدر اورلائق تحسین اخلاص وایثار سے کام لیتے ہیں ۔اس کا اصل سرمایہ تو کل علی اللہ ہے ،کسی حکومت کی امدادیا کسی مستقل ذریعہ ٔ آمدنی کے بغیر محض اللہ کے فضل وکرم اورعام مسلمانوں کے عطیات سے یہ ادارہ اپنی بیش بہا خدمات کی طرف رواں دواں ہے۔

جامعہ اسلامیہ عربیہ کا مقاصد

یہ جامعہ ایک مؤقر دینی تعلیمی اور اصلاحی ادارہ ہے ۔جن کے اسباب وعوامل کے تئیں یہ ادارہ وجود میں آیا ہے ،وہ خود قابل اعتناء اور ہمیشہ دردمندان ملت کی تو جہات کا مرکز ومحور رہے ہیں اور دور رس وبالغ نظر علماء کرام نے ہمیشہ اس پر اپنی فکر مندی اور جان سوزی کا اظہا ر کیا ہے․․․یو ں تو ہند وستان کے طول وعرض میں بے شمار مدارس کا جال بچھاہو اہے لیکن جس مقام پر ملت کے کچھ غیور وجسورفرزندان نے اس جامعہ کی بنیاد ڈالی ہے وہ مقام روحانی خشک سالی اور تعلیمی پسماند گی کا ایک تماشہ بنا ہو ا تھا ۔
قرآن وسنت کی تعلیمات کو عام کرنا۔
اسلام کی صاف ستھری تصویر پیش کر نا۔
مسلمانوں میں دینی بیداری پیدا کرانا۔
حالات حاضرہ سے امت کو واقف کرانا ۔
امت کو جامعہ کی دینی وملی خدمت سے واقف کرانا ۔
اسلام کی حقانیت اور ابدیت کو دلائل عقلیہ و نقلیہ سے ثابت کرنا ۔
مسلمانوں کے دلوں میں عشق الہی اور اطاعت رسول پیداکرنا۔
امت کے نوجوانوں کو نت نئے فتنے اور چیلنجزسے نپٹنے کی راہیں دکھانا ۔
امت کو بدعت وخرافات سے بچنے کی تلقین کرنا اور احیا ء سنت کی طرف راغب کرنا ۔
مسلم معاشرہ کو افراط و تفریط سے د ور رکھنے اور صراط المستقیم پر چلنے کی ہدایت دینا ۔
اہل سنت والجماعت کی ترجمانی کرتے ہوئے عصری اسلوب میں دعوت فکروعمل دینا ۔
نبی ؑکے پیش کردہ اورسلف صالحین سے متوارث ،اسلامی عقائد اور دینی اصول کی اشاعت کرنا۔
مسلم معاشرہ جن اسباب سے ہلاکت وفلاکت کے اتش فشاں پر کھڑاہے ان کو صحیح علاج ومداواکرنا۔
اسلام کے متعلق برادران وطن کی غلط فہمیوں کے ازالہ کی منصوبہ بندی کوشش کرنا ۔

جامعہ اسلامیہ عربیہ کے بڑھتے قدم

بغداد ہند جسے ہم بھوپال کہتے ہیں ، یہ اس شخص کے نام پر بسایا ہوا شہر ہے جس نے بچشم خود معجزہ شق القمر دیکھاتھا۔ شہر بھوپال ہندوستان جنت نشان کے وسط میں واقع ہے۔ چاروں موسموں کا مزاج معتدل ہے ۔ اللہ نے شہر بھوپال کو بہت سی خصوصیات سے نوازا ہے۔ یہ اولیاء اللہ، قضاۃ عظام، مفتیان کرام، علماء اسلام، شعراء، و ادباء ،مساجد و معابد ،نوابوں و بیگمات ، تاریخی عمارتوں ، تال تلیوں، آبشاروں اور ہرے بھرے پہاڑوں کا شہر ہے۔ پہاڑوں کے نشیب و فراز پر آباد یہ شہر رات میں روشنیوں اور قمقموں سے ایسا خوشنما معلوم ہوتا ہے جیسے تارے زمین پر اتر آئے ہوں۔ طلوع صبح کے وقت مساجد کے بلند و بالا میناروں سے اذانوں کی دلفریب آوازیں دلوں کو مسحور اور صبح کو خوشنماکردیتی ہیں۔ اور شام میں شبِ مالوہ اپنی تمام تر رعنائیوں سے رات کو اپنی آغوش میں لے کر فرحت بخش بنادیتی ہے۔ ان تمام خصوصیات کے باوجود بھوپال کے حسن و جمال میں جس چیز سے اضافہ ہوا ہے وہ علم دین ، اشاعت دین، خدمت قرآن اور مدارس کا قیام ہے۔
ہندوستان میں انگریزوں کی آمد سے پہلے پورا ملک اپنی تعلیمی ، معاشی اور اقتصادی حالات کو مستحکم اور مضبوط بنانے کی فکر میں تھا ، شب وروز کی یہ کوشش تھی کہ تعلیمی و معاشی نظام کو بہتر سے بہتربنایاجائے کہ شومیٔ قسمت سے ۱ ۱۶۰؁ء میں انگریزوں نے تجارت کے بہانے ہندوستان میں اپنے ناپاک قدم جمانے شروع کردئیے اورآہستہ آہستہ ہندوستان پرپوری طرح قابض و متصرف ہوگئے۔ جب تک انگریزوں کے ناپاک قدم یہاں رہے اسلام اور مسلمانوں کو نقصان پہنچتا رہا۔ بلکہ ان کا یہ خاص مشن بن گیا کہ ہندوستان پر حکومت کرنے کے لئے قرآن اور علماء کرام کو نشانہ بنایا جائے اور اس میں کافی حدتک وہ کامیاب بھی رہے۔اس طرح ہندوستان میں علمی و معاشی نظام درہم برہم ہوکر رہ گیا۔ مگر اسلام تو غالب اور ہمیشہ باقی رہنے والا مذہب ہے۔یہاں کے علمائے کرام نے بھی ایک خاص مشن بنایا اور تحریک چلائی اور پورے ہندوستان میں جگہ جگہ مدارس ، مکاتب اور خانقاہوں کا جال بچھانا شروع کردیااور مسلمانوں کے سماجی ، سیاسی ، اقتصادی اور دینی ضروریات کوپورا کرنے کی ہر ممکن کوشش میں منہمک ہوگئے ، اس طرح سے یہاں قیام مدارس کا ایک زریں سلسلہ چل پڑا۔
راجہ بھوج (عبداللہ)کے بھوپال پر ۱۷۰۲؁ء میں نواب سردار دوست خاں صاحب بانی ریاست بھوپال کی آمد اور نوابوں و بیگمات کے ذریعہ اسلامی شان و شوکت کا ظہور ہوا ، مساجد و معابد کی تعمیر اورمدارس کا قیام عمل میں آیا تو بھوپال کی شان و شوکت میں چار چاند لگ گئے۔مسلمانوں کی علمی و عملی ضروریات کی تکمیل ہونے لگی اورجہالت و گمراہی کی تاریکیوں میں علم کی روشنی پہنچنے لگی۔
مدرسہ حمیدیہ ، مدرسہ سلیمانیہ اورمدرسہ احمدیہ وغیرہ نوابین بھوپال کے ہی قائم کردہ ہیں۔ بھوپال کے آخری فرمانروا نواب حمید اللہ خان صاحب کے بعد ریاست کا نظام ختم ہوگیا۔ مگرمدارس اپنی حالت پر برقرار رہے اگرچہ ان کی معیاریت ختم ہوچکی تھی۔
چنانچہ اس مبارک کام یعنی معیاری مدرسہ کے قائم کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے مرد مجاہد حضرت مولانا مفتی عبدالرزاق خان صاحب کو منتخب فرمایا۔ حضرت مفتی صاحب نے ۱۳۷۸؁ھ میں چند درویشان خدا کی سرپرستی میں مسجد ترجمہ والی ہی میں تعلیم شروع فرمادی۔ اس مسجد میں چونکہ حضرت مفتی عبد الہادی صاحب رحمۃ اللہ علیہ تفسیر قرآن پاک فرمایا کرتے تھے ، اسی نسبت سے اس مدرسہ کانام ’’․․․․․․․․․․․․․جامعہ اسلامیہ عربیہ مسجد ترجمہ والی ‘‘طے پایا ۔ حضرت مفتی صاحب نے خون جگرسے اس مدرسہ کو سینچا ، بام عروج تک پہونچایا اور اسے معیاری بنایا ، آپ کے شانہ بشانہ شیخ الحدیث حضرت مولانا سید عابد علی وجدی الحسینی صاحب علیہ الرحمہ ،حضرت مولانا سید محمد مہدی حسن صاحب علیہ الرحمہ، حضرت مولانا مطیع اللہ خان صاحب علیہ الرحمہ اور دیگر اکابر نے اس کو پروان چڑھانے میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ، اس طرح سے اس میں تعلیمی نظام قائم ہوتا چلا گیا اور مدرسہ ترقی کرتا رہا ۔آج تشنگان علوم نبوت یہاں اپنی تعلیم مکمل کرتے ہیں ۔ دورۂ حدیث شریف اور شعبہ افتاء یہاں کا ایک اہم شعبہ ہے۔ مؤرخ اسلام حضرت مولانا قاضی سید عابد علی وجدی الحسینی نوراللہ مرقدہٗ نے شیخ الحدیث کا عہدہ سنبھال کر علم حدیث کو پروان چڑھایا ۔ جامعہ نے بڑے بڑے علمائے عظام اور حفاظ کرام پیدا کئے جو آج ہند و بیرون ہند میں علمی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ اسی پر بس نہیں بلکہ محلہ محلہ مکاتب قائم کر کے ہر گھر اور ہر فرد تک علم کی روشنی بکھیرنے کی کوشش کی۔ آج جامعہ کی۲۰۰؍ سے زائد شاخیں بھوپال واطراف میں قائم ہیں جن کے اساتذہ کی تنخواہ جامعہ بھی ادا کرتا ہے۔ جامعہ میں پورے ملک سے طالبان علوم نبوت آتے ہیں اور علمی تشنگی بجھاتے ہیں۔ جامعہ کا صرفہ پونے دوکروڑ روپئے تک پہنچ چکا ہے جو محض اللہ کے فضل و کرم سے پورا ہوتا ہے۔
آج سے۲۸سال قبل حضرت مفتی صاحب نے شہر بھوپال سے ۲۸ کلومیٹر دور پھندہ ریلوے اسٹیشن کے قریب جامعہ نگر میں ایک وسیع مدرسہ قائم کیا تاکہ وہ شہری بچے جو شہر کے گندے ماحول سے متاثر ہوکر علم دین حاصل نہیں کرپاتے وہ صاف ستھرے پرسکون ماحول میں دینی تعلیم حاصل کرسکیں۔الحمد للہ اس کے اچھے نتائج برآمد ہوئے ہیں۔ فی الحال پرائمری مکتب، حفظ وتجوید کا معقول نظم کیاگیا ہے۔
حضرت مفتی عبد الرزاق خان صاحب کی بھوپال و مدھیہ پردیش کے لئے یہ ایک بہت بڑی قربانی ہے جس کو رہتی دنیا تک تاریخ کے سنہرے اوراق میں جگہ دی جائے گی۔ حضرت مفتی صاحب جامعہ کی نگرانی کے ساتھ ساتھ صوبہ کے دیگر مدارس اسلامیہ کی سرپرستی بھی فرمارہے ہیں۔ مسلمانوں کے سیاسی ،سماجی ، معاشی مسائل ہوں یا ہندو مسلم فسادات کے پریشان کن حالات ہر جگہ اپنی جان و مال کے ساتھ پیش پیش رہتے ہیں اورآنا فاناً حالات کو قابوکرنے کی بھرپورکوشش کرتے ہیں۔ اللہ سے دعا ہے کہ آپ کا سایہ تادیر ہم تمام مسلمانوں پرقائم و دائم رہے۔ آمین۔

جامعہ کامکتب ابتدائی سے درجہ تحقیقات تک کا سفر

الحمدللہ اس جامعہ میں درجہ ابتدائی مکتب کی تعلیم تو۲۳؍شوال ۱۳۷۹ھ؁ بمطابق ۱۹۵۸ ؁؁بروز جمعرات سے ہی شروع ہوگئی تھی پھر دوسال کے قلیل عرصہ میں درجہ وسطانیہ اورعالیہ ۱۳۸۲ھ؁ میں قیام عمل میں آیا نیز درجہ مولوی و عالم ۱۳۸۵ ھ؁ درجہ اوراس کے بعد ۱۳۹۵ھ؁ میں دورہ حدیث قائم ہوا۔ ۱۴۰۳ھ؁ سے درجہ افتا ء بھی قائم کیا گیا۔جامعہ میں سب سے پہلے بخاری شریف درس ۱۳۹۵؁ھ کو شروع ہواتھا جس کا افتتاح حضرت اقدس مولاناانعام الحسن صاحب (امیر تبلیغ جماعت بنگلہ والی مسجد مرکز نظام الدین دہلی ) نے کی اور اسی سال سب سے پہلے بخاری ختم فرمانے کا شرف حضرت مفتی صاحب کا استاذ بانی دارالعلوم دیو بند حجۃاللہ فی الارض حضرت اقدس مولانا قاسم صاحب نانویؒ کے لاڈلے پوتے حکیم الاسلام حضرت مولانا قاری محمد طیب صاحب ؒکوحاصل ہوا ۔الحمدللہ بزرگان دین کی روحانی دعاء سے مدرسہ میں بھی طلبہ کی تعداد بڑھنے لگی دوردراج سے اس مدرسہ میں طلبہ آنے لگے۔
مدرسہ کی ضرورت کے لیے مدرسہ کے آس پاس پانچ مکانات خرید ے گئے اورسب جامعہ اورناظم جامعہ کے نام پر وقف کردیئے گئے الحمدللہ حضرت کے نام سے مدرسہ کو ئی بھی زائداد نہیں ہے،جوکچھ ہے سب جامعہ کے نام پر ہے اورجامعہ کے ناظم پرہے ،جوبھی اس جامعہ کا ناظم بنیگا وہی اس کا مصرف ہو گا اور اسکو صحیخ استعمال کریگا ۔
آج الحمدللہ!! اللہ نے اس جامعہ کے لیے سب کی تکمیل تعمیری کرادی۔ چارمنزلہ شاندار عالی شان عمارتیں بن گئی ہیں اب یہ مدرسہ مدھیہ پردیش کا سب سے بڑا ادارہ ہے جس کے تحت آج ۲۰۰؍ شاخیں ہیں۔ تقریبا دس ہزار بچے پڑھتے ہیں۔
صرف ترجمہ والی مسجد کے اندر آج تقریباً ۸۰۰؍ سو طلباء رہتے ہیں۔قیام وطعام ،وظیفہ سے لے کر سب کچھ مفت ہے ۔
دورہ ،فتاء اورتحقیات کے طلبہ کو ۳؍سو روپے وظیفہ اورجامعہ تقریبا سوکا عملہ ہے۔ کئی لاکھ روپے ماہوار مصارف ہیں۔ طلبہ کو وظیفہ مزید اضافی بھی دیا جاتا ہے۔ کپڑے لحاف بھی جوتے بھی ۔ ماشاء اللہ تین کوئنٹل غلہ روز خرچ ہوتا ہے۔
اس کے علاوہ ساٹھ ایکڑ زمین صرف ساٹھ ہزار روپے میں میں خریدی گئی ، اب اس کی قیمت ۲۵؍لاکھ ایکڑفی ہے۔ وہاں بھی ۳۵۰؍ سو طلباء رہتے ہیں ایک بہت ہی خوبصورت مسجد بن رہی ہے، اللہ تعالیٰ مکمل کرائے۔

جامعہ کا مفتی عبدالرزاق لائبیری

جامعہ اسلامیہ عربیہ مسجد ترجمہ والی موتیا پارک کا کتب حانہ ’’مفتی عبدالرزاق لائبیری ‘‘جو مدنی دارالقرآن کے تیسری منزل پر ایک وسیع ہال میں واقع ہے ۔یہ کتب خانہ ایک طرح سے جامعہ کی جان اور ہندوستان کی فیاضی کا بے نظیربیش بہا سرمایہ علمی سرمایہ ہے۔اس میں کتب کا اتنا بڑاذخیرہ موجود ہے جس کی کو ئی مثال نایاب نہ سہی کم یا ب ضرور ہے ۔
اس کتب خانہ میں جب تک آپ گھنٹوں ٹھہر کر تفصیلی سیر نہ کریں اس وقت تک اس کا صحیح اندازہ لگانااور لطف نہیں اٹھا سکتے ۔یہاں تقریبا ۵۰؍ہزار سے زائد کتابیں موجود ہیں ۔بیش بہا کتب کے اس عظیم الشان ذخیرہ میں مطبوعہ کتابوں کے علاوہ مخطوطات (قلمی کتب ) کی بھی ایک بڑی تعداد موجود ہے ،ان میں فن خطاطی کے لحاظ سے بھی مخطوطات بڑے عجیب وغریب ہیں ۔ان میں بعض کتب کسی زمانے میں شاہی کتب خانوں کی زینت رہ چکی ہیں ،ا س لئے تاریخی اہمیت کی حامل ہیں ۔چند مخطوطات ایسے بھی ہیں جن کی نسبت سے یہ کہا جاسکتاہے کہ ان کی نقل آج دنیا کے کسی کتب خانہ میں موجود نہیں ہے ،اس لحاظ سے اگر یہ کہا جائے کہ یہ کتب خانہ ہندوستان کے بہترین اور علمی مواد سے لبریزکتب خانوں میں سے ایک ہے تو اس میں غالبا مبالغہ نہ ہو گا ۔سن تحریر کے ریکارڈکے مطابق ان میں سے تعض مخطوطات پر چھ چھ اور سات سات سوسال گزرچکے ہیں لیکن تب بھی ان تمام کتابوں کے کاغذات اپنی حالت پر قائم ہے ،سیاہی اوررنگ وروغن کا یہ حال ہے کہ گویا لکھنے والے ابھی ابھی لکھ کر فارغ ہوا ہے ۔کا غذ ،حسن تحریر اور نقشہ نگار وغیرہ واقعی دیکھنے کے لائق ہے ،کیا مجال کہ سینکڑوں صفحات لکھنے پر خط کی یکسانیت اور سیا ہی کے رنگ اور قلم میں ادنیٰ فرق پید اہو جئے ،اگر تاریخی نقطہ نظر سے غور کیا جائے تو صاف محسوس اور معلوم ہو گا کہ کا غذ کی ساخت اور خط کی شان میں عہد بعہد ترقی ہو تی چلی گئی ہے ۔ان کتابوں سے اسلامی ممالک کی تہذیب وتمدن اورعلمی کاموں سے مسلمانوں کی دلچسپی اور شغف کا فی الجملہ انذازہ کیا جاسکتاہے ۔
اس کتب خانہ میں مختلف زبانوں کی کتب موجود ہیں اور بڑاذخیرہ عربی،اردو اورفارسی میں ہے تاہم انگریزی ،ہندی سندھی ،پشتو،بنگلہ ،بھوجپوری وغیرہ زبانوں کی کا فی کتابیں موجود ہیں ۔یہاں عام مشرقی کتب خانوں کی طرح کتابوں کی تقسیم فن وار ہے یعنی ایک فن وموضوع سے تعلق رکھنے والی تمام کتابیں خواہ وہ کسی زبان میں ہوں اس فن کے تحت رکھی گئی ہیں۔
اس کتب خانہ میں کتابیں تقریبا ۴۲؍اہم فنون پر منقسم ہیں ۔کتب خانہ کی ہال ناکافی ہونے کی وجہ سے اکثر فنون میں ان کے مناسب فنون کو شامل کردینا پڑاہے ،مثلا تاریخ میں محاضرات ،سیر وسیرت ،مناقب ،سفر نامے اورجغرافیہ وغیرہ مستقل فنون میں شامل ہیں ،سیاسیات ،معاشیات ،اقتصادیات ،نفسیات اورحکمت وغیرہ علوم کوعلاحدہ علاحدہ ہو نے کے بجائے علو م متفرقات کے ذیل میں رکھے گئے ۔ہر کتاب کی پشت پر چٹ لگائی گئی ہے ۔ہر ایک فن کی کتابیں کافی تعداد میں موجود ہیں۔

مختلف فنون ایک نظر میں

قرآن ،علوم قرآن ،تفسیر ،اصول تفسیر ،تجوید وقرأت ،حدیث ،اصول حدیث ،اسمائے رجال ،فقہ ،اصول فقہ ،فرائض ،میزان ،عقائدوکلام،منطق،فلسفہ ،ہیٔت ،ریاضی ،نحو،صرف ،معانی ،بیا ن وبدیع ،عروض وقوافی ،لغت ،ادب ،تاریخ ،جغرافیہ ،دتصوف ،اخلاق ،وعظ ،اوردووظائف ،طب قدیم وجدید ،کیمیا،علم جفر ،علم رمل،علم الاعداد ،علم الالواح والاسماء عقائد ومناظرہ وغیرہ ۔
یہ مختصر تفصیل درسی غیر درسی کتابوں کی ہے ،صرف درسیات کی مجموعی تعداد ۱۰؍ہزار کے قریب ہے ،ہمارے قدیم نظام تعلیم کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ اس میں طلباء کے لیے زیردرس کتابوں کا مہیاکرنا بھی کتب خانہ ہی کے ذمہ ہو تاہے ،اس لیے ہر درسی کتاب کے نسخے اس جماعت کی تعداد سے زائد ہمیشہ موجود رکھے جاتے ہیں ۔جگہ کی قلت اور کتابوں کی کثرت کی وجہ سے کتب خانہ کایہ ہال چونکہ ناکافی ہے اس لیے فرش سے چھت تک آہنی الماریا ں لگائی گئی ہیں تاکہ ان میں زیادہ سے زیادہ کتابیں رکھی جاسکیں ۔
(۱) کم از کم ۵؍سے ۱۰؍ ایسی نادر اور نا یاب کتاب ہے جس کے پر سرکار کی طرف سے پابندی لگی ہو ئی ہے ۔
(۲)تقریبا ۳۵۰؍سے قریب ایسی مخطوطات ہیں ان میں سے بعض کی سن تحریر تقریبا ۱۰۰۰؍سال پرانی ہے ۔
(۳)سونے کا پانی سے لکھے ہو ئے مخطوطات کی تعداد بھی تقریبا ۵۰ ؍ سے اوپر ہے ۔
(۴)اکثر مخطوطا ت کی سن تحریر عام طور پر دوسو سے چار سو سال پرانی ہے ۔
(۵)کتب خانہ میں جملہ کتابوں کی تعداد تقریبا ۵۰؍ہزار سے زائد ہے ۔
(۶) ہرفن کی کتاب ہمہ وقت استفادہ کے لیے دستیاب ہے ۔
(۷)کتب خانہ عربی ہی نہیں بلکہ دنیا کے مختلف اہم زبانوں کی کتابیں بھی موجودہیں۔

چند اہم کتابوں کی سرسری جائزہ :

اس کتب خانہ میں ایسی نادر اور نایا ب اورقدیم کتابیں ہیں جو شاہداور کسی کتب خانہ میں موجودہوں ۔مثال کے طور پرچندکتابو ں کی مختصر تعارف درج کیا جاتاہے ۔
(۱)حضرت اورنگ زیب عالمگیرسلطان ہند کا دست مبارک سے سونے کے پانی سے لکھا ہو ا اہم مخطوطات قرآن مجید جس کو انھوں نے ․․․․․․․․․․․․․․سن کے درمیان تحریر کیا تھا ،ایک تخمینی طور پراس نا یا ب قرآن مجید کا ہدیہ تین کڑورروپئے ہے ۔
․احقر راقم الحروف (مفتی عبدالمعبود قاسمی غفرلہ)اس کتب خانہ خادم ہے اورہمیشہ کسی بھی وقت کہیں کا بھی مہمان تشریف لاتے ہیں تو فورا یہ اہم کتب خانہ کھول کر ان مہمانان کراام کی ان اہم کتابوں کی زیارت کراتاہے اور ان مہمان کرام کو جامعہ سے لیکر تمام جامعہ کے شعبے جات کے متعلق معلوم فراہم کرتا ہے نیز کتب خانہ کی مکمل تعارف کراتاہے لیکن جب احقر کے پا س کو ئی اخبار یا میڈیا والے یاسرکاری لوگ آتے ہیں تو ان کے سامنے تو جامعہ کا مکمل تعارف تو کراتاہے لیکن ان مذکورہ اورنگ زیب عالمگیر کا تحریر کردہ قرآن کا تعارف گول مول انداز سے کراتا ہے کیونکہ ڈر یہ ہوتا ہے کہ اس قرآن کو حکومت کی زائداد سمجھ کر سرکار قبضہ نہ جمائے ۔
(۲)’’قرآن واوی ‘‘جس قرآن کا شروع لائن سورہ فاتحہ کو چھوڑ کر تمام لائنیں حرف ’’واو‘‘سے شروع ہو تی ہے ۔اس قرآن کریم کی اہم خصوصیت جو اس کوتاہ نظر کی نگاہ سے گذری وہ یہ کہ
’’قرآن واوی شریف ‘‘ مرتب :جباب اعجاز الرحمن انجینئر صاحب حیدرآباد (اے․پی )
میر ے (راقم الحروف )کو تاہ نظر سے اس قرآن کی تقریبا ۱۹؍خوبیاں ہیں:
(۱)ہرپارہ صرف ۴؍چار صفحات میں مکمل ہے۔
(۲)ہرصفحہ میں صرف ۲۰؍سطریں ہیں۔
(۳)ہر سطرسورہ فاتحہ کو چھوڑ کر حرف واؤسے شروع ہو تی ہے ۔
(۴)الفاظ متناسب اورحرکات ونقاط تقریبابرمحل ہیں۔
(۵)تمام حروف وسطور کی مقدار تقریبا یکساں ہیں ۔
(۶)آیت سجد ہ کی علامت علاحدہ ظاہر کی گئی ہے۔
(۷)ہر صفحہ عام قرآن کے ربع پارہ پر مشتمل ہے۔
(۸)یہ قرآن صرف ۱۲۱؍صفحات میں مکمل ہے ۔
(۹)رموز وعلامت کا مکمل لحاظ رکھا گیا ہے ۔
(۱۰)مکمل قرآن صرف ۲۴۰۰؍ سطروں میں ہے ۔
(۱۱)اختتام پارہ اور اختتام سورت کی علامت الگ الگ ہے ۔
(۱۲)روزانہ ایک صفحہ تلاوت کرنے پر صرف ۴؍ مہینے میں مکمل ہو جائیگا۔
(۱۳)اس مکمل قرآن کی ترتیب صر ف دومہینے کے قلیل عرصہ میں کرلی گئی ہے ۔
(۱۴)’’قرآن الفی ‘‘کے بعد ’’قرآن واوی ‘‘کی یہ پہلی ایک کامیاب کوشش ہے ۔
(۱۵)شروع کی آٹھ سطروں کے علاوہ مکمل قرآن کی یعنی ۲۳۹۲؍سطریں ’’واو‘‘سے شروع ہو تی ہے۔
(۱۶)پارہ اور سورتوں کے اختتام پرکچھ خاص علامتیں رکھی گئی ہیں جو دیکھنے اور سمجھنے سے تعلق رکھتی ہیں۔
(۱۷)عام نسخے ۹؍یا ۱۰؍یا اس سکے زائد صفحات پر ہیں اس کو صرف ۴؍ صفحات میں سمودیا گیاہے ۔
(۱۸) روزانہ اس قرآن کا اگر ایک صفحہ یا د کرنے کا معمول بنا لے تو صرف ۱۲۰؍دن میں حافظ بن سکتاہے۔
(۱۹)۶؍روز میں ترابیح کے ختم کے لیے آسان ہے کہ ہر رکعت میں ایک صفحہ پڑھ لیں تو ۶؍راتوں میں یعنی ۱۲۰؍ رکعتوں میں پورا قرآن مکمل ہو جائے گا(ان شاء اللہ تعالی )۔
٭یہ ۱۹؍خصوصیات ہیں یہ بھی ایک اعجاز ہے کہ ۱۹؍کے عدد کو قرآن سے خاص نسبت ہے کہ قرآن کا ہرحرف ۱۹؍ سے تقسیم ہو جاتاہے ۔
(۳)’’قرآن الفی ‘‘اس قرآن کریم کا شروع لائن حرف ’’الف ‘‘سے شروع ہو تی ہے۔(حضرت کے دفتر میں موجود ہے )
(۴)عنوان الشرف جو علامہ شیخ شرف الدین الیمنی ؒکی شہر آفاق کتاب ہے جو آج کل با لکل نا یا ب ہے ۔اس کتاب کی چند خصوصیت یہ ہے
(۱) مکمل عربی زبان کی یہ ایک عجیب وغریب کتاب ہے جس کو دیکھ کر کبھی کبھی خود مجھے (راقم الحرف )یہ غلط فہمی ہو تا ہے کہ اس کتاب کامصنف انسان میں تھا یا جنات میں سے ؟ مکمل یہ کتاب علم فقہ میں ۱۵۰؍صفحات اور․․․․․․سائز کی ایک معمولی سی کتاب معلوم ہوتی ہے لیکن جب آپ اس کتاب کو غورسے دیکھ نگے تو معلوم ہو گا کہ یہ کتاب ۷؍ کالموں اورپانچ علوم پر مشتمل ہے ( یعنی علم فقہ ،عروض ،تاریخ ،نحواور علم قوافی پر مشتمل ہے)۔
(۲) اس کتا ب کو اگر عام کتابو ں کی طرح (تمام کالموں کو ملاکر ایک ساتھ )دائیں سے بائیں کی طرف پڑھیں گے یعنی جس طرح عام کتا ب پڑھی جاتی ہے تو یہ مکمل کتاب علم ’’فقہ ‘‘کی معلوم ہوگی۔
(۳)کا لم نمبر ا؍ کو اوپر سے نیچے کی جانب ایک دواورمختلف حرفوں کو جوڑجوڑ کر (ملا کر)پڑھنیگے تو یہ مکمل کتاب علم ’’عروض ‘‘کی معلوم ہو گی۔
(۴)کا لم نمبر ۲ ؍کو اوپر سے نیچے کی جانب پڑھینگے تو مکمل یہ کتاب علم ’’تاریخ ‘‘کی معلوم ہو گی۔
(۵)کا لم ۵ ؍کو اوپر سے نیچے کی جا نب جوڑجو ڑ کر پڑ ھینگے تویہ مکمل کتاب علم’’ نحو‘‘ معلوم ہو گی ۔
(۶)کالم نمبر ۷ ؍کو اوپر سے نیچے کی جانب جوڑ جوڑ کر پڑھینگے تو یہ مکمل یہ کتاب علم ’’قوافی ‘‘کی معلوم ہو گی ۔
(۵)’’القرآن المجود ‘‘کا لر کو ڈ قرآم کریم جس قرآن میں مکمل فن تجوید کو مختلف طرح کے رنگوں کے ذریعہ تجوید کے ساتھ قرآن سکھایا گیاگیا ہے ،جو خا ص طور پر عوام الناس اور ناظرہ خواہوں کے لیے ایک انمول اور نا یا ب تحفہ باری تعالی سے کم نہیں ہے ۔
(۶)’’سبعہ عشرہ کا حامل قرآن ‘‘مختلف مشہورقاری سے روایت کردہ الگ الگ قرأت کاقرآن مثلا’’قرات ورش،قالون‘‘ وغیرہ کی قرآۃ پر پر مشتمل قرآن کریم موجو د ہے ۔
(۷) ’’ہادی عالم‘‘مصنف محمد ولی رازیؒ
سیرت پاک ؐ کے موضوع پر اردو میں دنیا کی اولین غیر منقوط کتاب،سیرت النبوی کی شان انفرادیت کا ایک عجیب اور حیرت انگیز شاہکار
ز بیشتر لوازمات سیرت نگاری سے متصف ہیں۔
زواقعات زندگی رواں او ر عام فہم زبان میں ہیں۔
زمستند کتابوں کے حوالے بھی مذکور ہیں۔
زہادی عالم۳۰۴ صفحات اور ۱۷۵ عنوانات پر مشتمل ہے۔
زشروع سے آخرتک پوری کتاب میں کوئی حرف نقطہ والا نہیں ہے۔
زجابجا حواشی بھی لکھے ہیں جن کی بدولت اغلاق وابہام کے شاذونادر مقامات کو سہل اور قابل فہم بنا دیا ہے۔
ز ’’ہادی عالم‘‘ علم ادب کے ایسے نادر عجوبے خال خال کہیں وجود میں آتے ہیں اور صدیوں یادگار رہتے ہیں۔
زپوری کتاب میں کسی جملہ میں یا ربط عبارت میں یا بیان کی سلاست وروانی میں یا مفہوم کی ادائیگی میں یا واقعات کی تفصیل میں کہیں بھی کسی مقام پر کوئی بھی خلش یا ابہام نہیں ہے۔
زذوقاً یہ خیال ہوتاہے کہ یہ سب کچھ صاحب سیرتؐ سے شرف نسبت حاصل ہونے کا ایک اعزاز ہے۔
زواقعات کی صحت کا پورا اہتمام کیا ہے اور اس بات کا خیال رکھا گیا ہے معمولی سی معمولی جزوبھی تحقیق اور صداقت واقعہ کے خلاف نہ ہونے پاوے۔
زعلم بدیع کی ایک مشکل صنعت(غیر منقوط) کو مکمل طور سے بامعنی عبارتوں میں استعمال کرکے جاں فشانی کا ایک نادر نمونہ پیش کیا ہے جسے اردو زبان کے ذخیرہ میں ایک بیش بہا اضافہ قرار دیا جاسکتا ہے۔

 

جامعہ کی طرف سے اظہا ر تشکر

یقینا اللہ کے بہت سے خوش نصیب بندے ایسے ہوتے ہی جو رضائے الٰہی اورخوشنودی مولیٰ کی ہمیشہ تلاش میں رہتے ہیں اوراس کی عطاکردہ نعمتوں کو ذوق وشوق سے فی سبیل اللہ صحیح وقت اورصحیح مصرف پر صرف کرنے سے دریغ نہیں کرتے ہیں ہر ایسے مخلصین ومحسنین حضرات کا جو کسی بھی صورت میں جامعہ کا تعاون فرماتے ہیں ہم انکے شکریہ اداکرنے کو واجبی حق سمجھتے ہیں کیونکہ حدیث میں من لم یشکر الناس لم یشکراللہ نیز ہم ان حضرات کے بھی شکر گذار ہیں جنہوں نے اپنی قیمتی دعاؤں ، گرانقدارمشوروں اورجانی ومالی قربانیوں سے جامعہ کو نواز رہے ہیں اورہمہ وقت جامعہ کی خدمت کرنے کے لئے سربستہ مستعد اورتیاررہتے ہیں ۔ ایسے ممدوح حضرات جامعہ میں رمضان المبارک ، عیدین ودیگر اوقات ومواقع پر زکوٰۃ ، خیرات، صدقات، عطیات، چرم قربانی ، فصل ربیع وفصل خریف کے وقت جامعہ کی امداد فرماتے ہیں ۔آخرمیں رب کائنات کی بارگاہ حقیقی میں ہم دست دراز ہوکر دعا کرتے ہیں کہ اللہ تمام معاونین کرام ومحبین عظام کی جملہ عطیات وغیرہ کو قبول فرماکر ان کی عمروں میں میں برکت نصیب فرمائے اوردنیامیں تمام آفات وآلام ومصائب سے نجات اورآخرت میں مغفرت کا سامان اورقرب الٰہی کا ذریعہ بنائے نیز خاص کرکے رمضان کے تمام ترفضیلتوں اور بر کتوں سے مالا مال فرمائے ۔ (آمین یا رب العٰلمین )

 

جامعہ کے بانی مفتی عبدالرزاق خانصاحب مدظلہ کا مختصر حالت

حضرت مفتی عبدالرزاق صاحب مدظلہ ایک نظر میں

حضرت مفتی عبدالرزاق صاحب مدظلہ نے ۱۳ ؍ اگست ۱۹۳۲ء؁ مطابق․ ۱۳۵۰؁ھ بروزسنیچرشہر بھوپال سے تقریبا ۱۰۰کلومیٹردور ’’کڈوالا‘‘ گاؤں تحصیل شجاعلپورضلع ’’شاجا پور ‘‘میں آنکھیں کھولیں ، پھر وہاں سے کچھ ایام بعد’’ لاہر کھیڑا ــ‘‘(لال کھیڑا)تحصیل شجاعلپور ،ضلع شاجاپور میں منتقل ہوگئے ۔پھر۷؍یا۸؍کی عمرمیں بھوپال تشریف لائے اور تب سے یہ بھوپال کے ہوکر رہ گئے ۔
پیدائش کے بعد ان کا نام عام طورپر پٹھانوں کے ناموں سے ہٹ کر خاندان کی قدیم بزرگ شخصیت پیر علامہ حضرت عبدالحکیم صاحب کی طرف نسبت کرتے ہوئے ان کا نام ’’عبدالرزاق ‘‘رکھاگیا۔جو بعد میں اسم بامسمی کے طورسوفیصد حضرت کے اوپرفٹ بیٹھتاہے ۔

حسب ونسب

حضرت کے والدمحترم کا نام حاجی سالار خان امی جان کا نام محترمہ حوّاجا ن اور دادا کا نام امیر خان تھا(جبکہ دادی جان مشہور قبیلہ سوات سے تعلق رکھتی تھیں)۔ آپ کے والد محترم سرحد کے قبائلی علاقے گَدون(جَدون) سے تعلق رکھتے تھے،پھر وہاں سے آکر پاکستان کے سرحدی علاقے میں بس گئے ،حضرت کے اصل خاندان ’’ قبیلہ گدون ‘‘’’ساندوا گاؤں‘‘ ضلع’’ گندوب ‘‘کے رہنے والے تھے، اب فی الحال یہ ضلع ’’صبائے‘‘تحصیل’’ ٹوپئے‘‘ کے نام سے مشہور ہے ، جو آج کل پاکستان کے مردان اور پشاور کے پاس ہے ۔
حضرت کے قدیم خاندان میں پیر میاں عبد الحکیم صاحب نام کے ایک بڑے بزرگ گذرے ہیں ان کے متعلق یہ کہا جا تا ہے کہ جب وہ افغانستان سے ہجرت کر کے چلے تو ان کے ساتھ متعددافراد کے ساتھ ساتھ پیڑ،پودے اور درخت وغیرہ نے بھی ان کے پیچھے پیچھے چلنا شروع کر دیا تھا ۔
موصوف پیرحضرت عبد الحکیمؒصاحب کے دو لڑکے تھے (۱)سالار خان (۲) منصورخان۔ان دوبھائی میں سے حضرت مفتی عبدالرزاق صاحب (مدظلہ) منصور خان مسیزی بابا کی اولاد میں سے ہے۔
حضرت مفتی صاحب کے دادا امیر خاں کے چار لڑکے تھے یعنی مفتی صاحب کے والد صاحب کے چار بھائی تھے (۱)مامورخاں(۲)غلام خان (۳)عنایت خان( ۴)سالارخا ں۔ان چار بھائیوں میں سے سب سے پہلے جناب مامور خان ؒاورپھر سالار خان ؒکو راجا گوالیارجیواجی راؤ سیندھیا نے اپنی حکومت میں لگانا( ٹیکس) وغیرہ وصول کر نے کے لئے سرحد پار سے یہاں بلایا تھا۔ راجاگوالیار نے ا نکو لاٹھی بندوق سے لے کر سارے سازوسامان کے ساتھ ساتھ زمین وجاگیر اور مکانات وغیرہ سب کچھ مہیاکرانے کے ساتھ ساتھ ان حضرات کو ’’کام دار‘‘ کے لقب اور عہدے سے بھی نوازاتھا۔والد محترم پہلے کامداری کے عہدے پرآکودیہ پھر گڈوالا پھر آخر میں لاہر کھیڑامیں رہے۔ حضرت کے والد محتر م حاجی سالار خاں ؒکی شادی دھنورہ گاؤں موجودہ تحصیل سارنگ پور ضلع راج گڑھ میں محترمہ حواجانؒ سے ہوئی جو کہ جناب محترم عباس خاں کی دختر نیک تھیں۔

حضرت کی ابتدائی تعلیم

والدمحترم حاجی سالار صاحبؒ اپنی نیکی وسادگی اور دینداری وپر ہیز گاری کی بنا پر علماء کرام کے بے حد قدرداں تھے۔ بچپن میں مسلمان گھرانوں کے رواج کے مطابق ’’رسم بسم اللہ‘‘ کے بعد ان کی تعلیم کا آغاز ہوا کچھ دن ان کے والد محترم حاجی سالارخان صاحب جوبڑی آسانی سے قرآن پڑھ سکتے تھے ان سے اور والدہ محترمہ سے گھر پرابتدائی تعلیم حاصل کرتے رہے ،پھرکچھ ایام کے بعد اس گاؤں کے ایک ہندو پنڈت دیوی لال سکسناسے ابتدائی کی تین کتابیں ہندی،انگلش اورحساب چالیس تک پہاڑے یاد کئے نیزاردو کے علاوہ دیگرچند کتابیں بھی پڑھی۔
حضرت مفتی صاحب۱۹۳۸؁ء میں تقریبا۷؍۸؍سال کی عمر میں اپنے وطن عزیز لاہر کھیڑ(لال کھیڑا)سے بغرض حصول تعلیم وعرفان ،علم ومعرفت کی راجدھانی ریاست بھوپال تشریف لائے اور تب سے وہ بھوپال کے ہو کر رہ گئے۔ان کے بڑے بھائی حاجی عبدالغفار خاں صاحب نے انکوبارش کے موسم میں بھوپال لاکرمولوی بشیر اللہ خاں کے پاس چھوڑاتھا ۔
مولوی بشیراللہ خانصاحب (جو بعد میں حضرت کے بہنوئی ہوئے،اوران ہی کی زیر نگرانی اور سرپرستی میں رہ کر مدرسہ الہیہ ومد رسہ احمدیہ میں تعلیم حاصل کی )کے پاس’’ مسجد ملنگ شاہ ‘‘میں کافی دنوں تک قیام فرمایا ۔اس کے بعد ۱۹۴۷ء؁سے کئی سال تک خزانہ والی مسجدکی بغیہ میں بنے ہوئے حجرے میں قیام فرمایا ۔اس دوران میں کچھ ایام موتی مسجد میں بنے ہوئے حجرے میں بھی قیام فرمایا۔

آپ کے ثانوی اساتذہ کرام

آپ کے ابتدائی استاذ مولوی عبد المنان صاحب ،مولوی علیم الدین صاحب اور مولوی علی اکبر صاحب (سرحدی )جو سب کے سب مادر علمی دار العلوم دیوبند کے فارغ التحصیل تھے۔مولوی علی اکبر صاحب اور پیر عبد الخالق صاحب نوراللہ مرقدہ (جو اصلابنگال حالیہ بنگلہ دیش کے نواکھالی کے رہنے والے تھے ، خلیفہ ء اجل حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکی نوراللہ اوربانی مدرسہ الہیہ تھے) ۔ اس مدرسہ میں حضرت نے ابتدایٔ تعلیم مثلا قرآن مجید ناظرہ مکمل فارسیقرآن پاک اور فارسی کی گلستاں، بوستاں ، کریمہ وغیرہ کتابیں پڑھی ۔
۱۹۴۸ء؁ تک مدرسہ الٰہیہ میں داخل رہے۔ وہاں سے ۱۹۴۸ء؁ میں احمدیہ سلیمانیہ اورینٹل کالج بھوپال میں شعبہ عربی میں داخلہ لیا۔ ۹۴۹ ؁ ۱ماہ جون میں ریاست بھوپال ختم ہوئی (انڈین یونین میں انضمام ہوگیا) حضرت اس وقت مولوی کے سال اول میں داخل تھے پھر الہ آبادبورڈسے مولوی سال دوم کے امتحان ۱۹۵۲ء؁ میں اعلی نمبروں سے کا میا ب ہو ئے ۔پھراس کے کچھ ایام کے بعدحضرت نے مدرسہ سلیمانیہ میں داخلہ لیااور مایہ ناز اساتذہ کے زیردرس حضرت نے عربی ،فارسی ،اردو ،ہندی ،پشتو،کشمیری ودیگر زبانوں میں مہارت حاصل کی ہے۔

مادر علمی دارالعلوم دیوبند کے آغوش میں

حضرت ۱۷؍شوال المکرم ۱۳۷۱؁ھ کو دیو بند روانہ ہو گئے ۔ دار العلوم دیو بند جاکر حضرت نے سال چہارم میں داخلہ لیا۔
سال چہارممیں ترجمہ قرآن (سورہ یوسف سے سورہ ق ٓتک ) حضرت مولانا سید حسن صاحب ؒسے کنز الدقائق حضرت مولانا محمد حسین المعروف بملا بہاری صاحب سے شر ح وقایہ مکمل حضرت مولانا محمد سالم صاحب مدظلہ العالی سے تلخیص المفتاح حضرت مولانا ظہور صاحب ؒسے مسلم الثبوت حضرت مولانااختر حسین صاحب ؒسے شرح جامی حضرت مولانا محمد نعیم صاحب ؒسے اصول الشاشی حضرت مولانا نعیم صاحب ؒسے قطبی حضرت مولانا نصیر احمد خان صاحبؒ ملاحسن ،علوم عصریہ فلکیت ریاضی ،فلسفہ وغیرہ علوم حاصل کی دیگر اساتذ ہ سے حاصل کی ۔
سال پنجم میں ہدایہ اولین حضرت مولانامیاں اختر حسین صاحبؒ سے، نفحۃ الیمن حضرت مولانا قاری اصغر حسین صاحب سے، ؒ ترجمہ قرآن مجید ازابتداء تاسورہ ھود حضرت مولانا سید حسن صاحب ؒسے ،مختصرالمعانی حضرت مولانا نعیم احمد صاحبؒ سے ،نورالانوارو مقامات حضرت مولانا سید حسن صاحب ؒسے، سلم العلوم حضرت مولانا ملابہاری صاحب ؒسے، عقید الطحاوی حضرت مولانا مبارک صاحب ؒنائب مہتمم دار العلوم دیو بندسے، مختصر المعانی حضرت مولانا نعیم احمد صاحب سے، ؒ شش مقامات حضرت سید حسن صاحب سے سلم العلو م حضرت مولانا سید حسن صاحب ؒسے، خارجی مطالعہ (تاریخ ،جغرافیہ وغیرہ)کتابیں پڑھی ۔
سال ششم : میں جلالین شریف حضرت مولانا محمد حسین بہاری صاحبؒ سے، ھدایہ اولین حضرت مولانا محمد معراج صاحب ؒسے، وحضرت مولانا بشیر احمد صاحبؒ سے، الفوز الکبیرحضرت مولانا جلیل احمد صاحب ؒسے، حسامی حضرت مولانا ظہور صاحبؒ سے، دیوان حماسہ حضرت حضرت مولانا معراج صاحب ؒسے، میبذی حضرت مولانا نصیر احمد صاحب ؒسے، تفسیر بیضاوی شریف حضرت مولانا فخرالحسن صاحب ؒسے۔
سال ہفتم: میں مشکو ہ المصابیح حضرت مولاناجلیل احمد صاحبؒ کیرانوی سے ،نخبۃ الفکر حضرت مولانا جلیل احمدصاحب ؒسے، شرح عقائد نسفی حضرت مولاناظہور احمدصاحب ؒسے سراجی حضرت مولانا ملابہاری صاحب ؒسے، اور ہدایہ آخرین حضرت مولانا ․․․․․․․․․․․․سے۔

سال دورہ حدیث شریف

بخاری شریف مکمل حضرت مولانا حسین احمد مدنی ؒسے ،مسلم شریف مکمل حضرت مولانا فخرالحسن صاحب ؒ سے ،ترمذی شریف مکمل حضرت مولانا ابراہیم صاحبؒ بلیاوی سے ،ابوداودشریف حضرت مولانا بشیر احمد صاحب سےؒ ،نسائی شریف اور ابن ماجہ شریف حضرت مولانا مبارک حسین صاحب ؒسے، طحاوی شریف حضرت مولانا محمد مبارک صاحب ؒسے، مؤطاامام محمدحضرت مولانا معراج صاحب ؒسے ،مؤطا مالک․․․․․․․․․․․․․․․․ سے شمائل ترمذی حضرت مولاناسید حسن صاحبؒ سے ،تجوید ومشق قرأت وغیرہ حضرت قاری حفظ الرحمن صاحب ؒوقاری حضرت عتیق الرحمن صاحب سے ؒوقاری حضرت احمدمیاں صاحب ؒوغیرہ سے۔

تکمیل افتاء

درمختار ،سراجی ،عقود رسم المفتی ،الاشباہ والنظا ئر،تمرین فتاوٰی نویسی وغیرہ کتابیں حضرت مولانا مفتی مہدی حسن صاحبؒ ودیگراساتذہ کرام دارالعلوم دیوبند سے حاصل کی۔

نکاح مسنونہ اور خد مت دین

۱۹۵۶ء؁ دیوبند میں دورہ حدیث شریف سے فراغت کے بعد ایک سال حضرت مولانا مدنی علیہ الرحمہ ودیگر بزرگان دین کی خدمت میں رہ کر کتابی اور روحانی تعلیم وتربیت سے اپنے کو سنوار تے رہے ۔شوال ۱۳۷۷؁ھ مطابق ․․․اپریل ۱۹۵۸؁ ؁مفتی شہر بھوپا ل حضر ت مفتی عبدالہادی صاحب ؒکی نواسی اور دخترنیک حکیم عبدالحمید صاحب ؒمحترمہ شمس النساء صاحبہ سے بھوپال کی تاریخی موتی مسجد میں بعدنماز عصر نکاح ہوا۔پہلا حج ۲ ؍جنوری ۱۹۶۹؁ء اور آخری حج ۲۰۰۴؁ء (حضرت نے تقریبا ۲۵حج کئے اللہ قبول فرمائے)
شادی کے تقریبا۳۱؍سال کے بعد۲۰؍اکتوبر ۱۹۸۹؁ء بروز․․․․․ کااوہ المناک دن تھا کہ حضرت کی اہلیہ محترمہ صاحبہ عشاء سے کچھ پہلے دنیا کے سارے رشتوں کے بندھن توڑکر وہ مالک حقیقی سے جاملیں(انا للہ واناالیہ راجعون)اس حادثہ کے تقریبا ۶؍مہینے بعد حضرت کی بیوہ سالی محترمہ ․․․․․․․․․․سے عقد ثانی ہو ا۔

جامعہ اسلامیہ عربیہ مسجد ترجمہ والی کا قیام

اس ترجمہ والی مسجد کو نواب سکندر جہاں بیگم صاحبہ کے عہدمیں مدارالمہام مولوی جمال الدین صاحب کے خاندان کے کسی فرد نے تعمیر کرایا تھا۔ اس مسجد میں بلاضابطہ ۲۰۰؍سال تک ترجمہ قرآن مجید اورباضابطہ ۵۰ ؍سال تک بخاری شریف کا درس ہوتارہاہے ،بخاری پڑھانے والے حضرت مولانا عبد العزیز صاحب تھے جو ایک صاحب نسبت اور کشف کرامت والے ولی اللہ میں سے تھے انھوں نے اس ترجمہ والی مسجدمیں۵۰؍سال تک ترجمہ بیان فرمایااور انھوں نے اس ترجمہ والی میں خود جناب رسول ﷺ کو تشریف لاتے ہوئے بارہادیکھا ہے ۔

جامعہ اسلامیہ عربیہ بھوپال کے قیام کاپس منظر

۱۹۵۸؁ء میں حضرت مفتی صاحب مدظلہ دارالعلوم سے فارغ ہو کر بھوپال تشریف لائے ،آپ نے حضرت اقدس سید حسین احمد مدنی ؒ جیسے ساتذہ سے دیوبند کی نورانی علمی مجلس، روحانی فضا اور خوبصورت چہار دیوار ی کے اندر علوم ظاہر ی وباطنی کوحاصل کیاتھا، جس کی بنا ء پر آپ کے اندر علم دین کی ترویج واشاعت کا جذبہ کو ٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا ۔آپ نے بھوپال آتے ہی علم کی خدمت کی ضرورت محسوس کی ،ماضی قریب میں اس ملک کی تقسیم کی وجہ سے ملت اسلامیہ کا شیرازہ بکھرگیا تھا ،سقوط حکومت اسلامی کے بعداس ماحول میں گھر گھر تعلیمی قرآن وحدیث ،ایمان واسلام کی روشنی پھیلانا بہت ہی ضروری تھا ،اس لیے آپ کا حساس اور جیتاجاگتا دل تڑپ اٹھا اور علماء کرام کے مشوروں سے مسجد ترجمہ والی میں باقاعدہ ازسرنومدرسہ کی بنیاد رکھنے کا خواب دیکھاتھا۔
آپ کے سسرمحترم اس مسجد میں امام تھے ،ان کے ایماء پرحضرت نے اس زمانے کے مفتی اعظم ،جامعہ احمدیہ کے سابق مہتمم، مفسرقرآن حضرت عبد الہادی صاحب رحمۃاللہ سے جامعہ کے قیام کے متعلق گفتگو فرمائی تو وہ بھی خوشی سے باغ باغ ہو اٹھے کیونکہ وہ بھی اس نیک کام(قیام جامعہ) کو برسوں سے کرنا چاہتے تھے لیکن ہزاروں مصروفیت اورا ہل ومخلص کارکنوں کے فقدان کے وجہ سے انکی سنہری خواب شرمندہ تعبیرنہیں ہوسکی لیکن حضرت نے جب اس خواب کو پورا کرنی چاہا تو فورا اس کی اجازت مرحمت فرمائی نیز انھوں نے بھی ہر طرح کی تعاون ومعاونت کی بھی پیشکش کی۔ساتھ ساتھ یہ بھی تاکید فرمائی کہ’’ اس مسجد کو کبھی نہ چھوڑنا،یہ بڑی متبرک جگہ ہے ۱۰۰؍سال تک یہاں ترجمہ قرآن بیان ہواہے‘‘۔
۲۳؍شوال ۱۳۷۹ھ؁ بمطابق ۱۹۵۸ ؁؁بروز جمعرات
چنانچہ۲۳؍شوال ۱۳۷۹ھ؁ بمطابق ۱۹۵۸ ؁؁بروز جمعرات کا دن ہندوستان کی اسلامی تاریخ میں وہ مبارک ومسعود دن تھا جس میں بھوپال کی نوابی سرزمین میں علوم اسلامیہ کی نشاۃ ثانیہ کا سنگ بنیاد رکھا گیا ،جس سادہ اور معمولی اورمعمولی طریقے سے اس پھوٹی گمنام مسجد میں یہ آغاز ہوا تھا ۔جس میں صرف چند بوریاں نشیں قدسی صفات کے چند معزز علماء کرام،مربیان عظام شخصیت مثلاحضرت اقدس مفتی عبدالہادی خانصاحب ،مولانا غلام یحیٰ صاحب ،مولانا ابراہیم خلیل صاحب ،مولوی بشیراللہ صاحب ،حکیم عبدالحکیم صاحب ،محترم مطیع اللہ صاحب وغیرہ حضرات کی موجود گی میں اس مدرسہ کی بنیاد ابتدائی ایک چھوٹا ننھاسا مکتب کی شکل ڈال دی گئی ،جس کو دیکھ کر یہ فیصلہ کرنا مشکل تھا کہ جس مکتب کاآغازاس بے سروسامانی سے ہو رہا ہے چند ہی سال کے بعد وہ علوم اسلامیہ کا ایم ․پی کا سب سے بڑامرکز بننے والاہے ،چنانچہ زیادہ مدت نہ گذری تھی کہ صوبہ ایم․پی کے کونے کونے سے اور ہندوستان کے دور دراز خطوں سے کتاب اللہ وسنت رسول اللہ اورشریعت وطریقت کے طالبین یہاں جوق درجوق آنے شروع ہوگئے اوردیکھتے ہی دیکھتے یہ چھوٹی سی مسجد تنگ ہو گئی اسی وجہ سے اس میں تعمیری سلسلہ چلتارہاساتھ ساتھ آس پاس کی تین مسجدوں ’’موتی مسجد ،حقیقت خاں مسجد ،کیلے والی مسجد میں تعلیم کا شاندار سلسلہ چلتا رہا اورکچھ ہی عرصہ میں علم ودانش کی کرنوں نے برصغیر کے مسلمانوں کے دل ودماغ کونور ایمانی اور تہذیب اسلامی سے منور کردیا۔پھرچندسالوں کے بعدشہربھو پال سے ۲۸؍ کلو میٹر دور واقع پھندہ کی ۶۰؍ایکڑ زمین صرف ۶۰؍ ہزار روپئے میں خریدی گئی اور اس کے کچھ ایام بعد اس زمین پر حضر ت مولانا محمد صدیق حسن صاحب باندھویؒ کے ہاتھ سے ایک مدرسہ کا بنیاد رکھا گیا ،مشاہدین نے بارہا پہلے اس زمین میں خطرناک زہریلے جانور مثلا سانپ ،بچھو،بھیڑیاوغیرکو دیکھے ہیں لیکن الحمدللہ جب سے یہاں پر مدرسہ قائم ہوگیا تب سے تمام موذی جانوروغیرہ سب ختم ہوگیا ۔

جامعہ کامکتب ابتدائی سے درجہ تحقیقات تک کا سفر

الحمدللہ اس جامعہ میں درجہ ابتدائی مکتب کی تعلیم تو۲۳؍شوال ۱۳۷۹ھ؁ بمطابق ۱۹۵۸ ؁؁بروز جمعرات سے ہی شروع ہوگئی تھی پھر دوسال کے قلیل عرصہ میں درجہ وسطانیہ اورعالیہ ۱۳۸۲ھ؁ میں قیام عمل میں آیا نیز درجہ مولوی و عالم ۱۳۸۵ ھ؁ درجہ اوراس کے بعد ۱۳۹۵ھ؁ میں دورہ حدیث قائم ہوا۔ ۱۴۰۳ھ؁ سے درجہ افتا ء بھی قائم کیا گیا۔جامعہ میں سب سے پہلے بخاری شریف کادرس ۱۳۹۵؁ھ کو شروع ہواتھا جس کا افتتاح حضرت مولاناانعام الحسن صاحب (امیر تبلیغ جماعت بنگلہ والی مسجد مرکز نظام الدین دہلی ) نے کیا اور اسی سال سب سے پہلے بخاری ختم فرمانے کا شرف حضرت مفتی صاحب کے استاذ بانی دارالعلوم دیو بند حجۃاللہ فی الارض حضرت اقدس مولانا قاسم صاحب نانویؒ کے لاڈلے پوتے حکیم الاسلام حضرت مولانا قاری محمد طیب صاحب ؒکوحاصل ہوا ۔

جمعیۃعلمائے ہندکے جنرل سکریٹری مقررہوئے

حضرت فراغت کے بعد ہی سے جمعیۃ علماء ایم ․پی سے جڑ ے ہو ئے تھے،محنت دلچسپی کی وجہ سے حضرت کو صدر جمعیۃ ایم․پی بنایا گیاپھر ․ ۱۹۶۰؁ء میں ہمارے حضرت مفتی صاحب کو جمعیۃعلماء ہند کی مجلس عاملہ کا ممبر بنایاگیااورتقریبا ۸۰ؔ ء؁ ؍ ۰ ۱۹۷؁ ء میں جمعیۃ کا جنرل سکریڑی بنایا گیا، حضرت الحمد للہ تین سال تک جمعیۃعلماء ہندکے باقاعدہ جنرل سکریٹری رہ کر ملک ملت ،دین ومذہب کا دل وجان سے خدمت کر تے رہے۔

نائب مفتی ،نائب قاضی پھر مفتی شہر بھوپال

حضرت نے دارالعلوم کے بعد شہر بھوپال میں مولانا عبد الہادی صاحب کی معیت مزید فقہ وفتاوی نویسی کا کام سیکھا اوراپنی اللہ داد صلاحیت ولیاقت اور لگن کی بدولت الحمد للہ ۱۹۵۸؁ء میں نائب مفتی شہر کے عہدے پر فائز ہو ئے،پھر ان کے (مفتی عبدالہادی صاحب)انتقال کے بعد ۱۹۶۸؁ء میں نائب قاضی شہر بھوپال منتخب ہوئے،پھرمفتی شہر بھوپال مفتی محسن صاحب کے انتقال کے بعد آپ کو مفتی شہر بھوپال بنایاگیا ۔آپ الحمدللہ اس عہدے جلیلہ پر ۱۹۷۴؁ء سے ۱۹۸۳؁ء تک تقریبا ۱۰؍سال تک اس عہدہ پر بحسن خوبی فرائض انجام دیتے ہوئے صرف اس جامعہ کی تعلیم تعلم اورترقی کی خاطراس تاریخٰ دارالقضاۃ سے خود سے مستعفی ہو گئے۔

سلسلہ خلافت اورحضرت مفتی صاحب

تزکیہ وسلوک کے تمام ترروحانی منزلیں طے کرنے کے بعد مندرجہ ذیل اکابرین کرام واولیائے عظام نے آپ کو خلافت دی ا وربیعت وارشاد کی اجاز ت مرحمت فرمائی ہے:
۱:- ۱۳۷۶؁ھ میں دیوبند سے دورہ حدیث شریف سے فراغت کے بعد شیخ الاسلام حضرت مولانا حسین احمد مدنی رحمۃ اللہ علیہ( شیخ الحدیث و صدر المدرسین دارالعلوم دیوبند)سے بیعت ہوکرتصوف اور سلوک کی منزلیں طے کرنا شروع فرمایا ۔آپ نے دلائل الخیرات اور قصیدہ بردہ ، مناجات مقبول، حزب البحر اور چھ تسبیح صبح و شام اور بارہ تسبیح بعد تہجد ذکر پاس انفاس اور ذکر قلبی کی اجازت دی۔
۲:- ان کے بعدحضرت مولانا مسیح اللہ خانصاحب سے بیعت ہوکرسلوک طے کرتے رہے۔
۳: شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا صاحب مہاجر مدنیؒ سے بیعت ہوکر منزلیں طے کرتے رہے ۔
۴: حضرت قاری محمد طیب صاحب رحمۃ اللہ علیہ مہتمم دارالعلوم دیوبند سے شرف بیعت حاصل کی۔
۵: مدینہ منورہ میں حاضری کے بعد مولانا عبدالغفور صاحبؒ کی مجلس میں حاضری ہوئی اور انھوں نے نقشبندیہ سلسلہ کا ذکر اور ختم خواجگان کی اجازت مرحمت فرمادی۔
۶:- مرحوم عبدالغفور صاحب ؒکے صاحبزادہ مولانا عبدالحق صاحبؒ سے بیعت ہوکر مدینہ منورہ میں مفتی صاحب نے چھ ماہ تک قیام فرمایا،وہاں پر لطائف ستہ طے کئے۔(۱) ذکر پاس انفاس(۲) ذکر قلبی (۳) ذکر روحی (۴) ذکر خفی ، ذکر سری (۵) ذکر خفی (۶) ذکر اخفی وغیرہ تمام سلسلے طے کئے اورآخرمیں حضرت عبدالحق صاحب نے نقشبندیہ سلسلہ میں تحریر ی خلافت مرحمت فرمائی۔
۷:- حضرت مولانا محمد حسن صاحب․․․․․ ہول سول یو․ کے نے حضرت کوخلا فت دیکر اپنا خلیفہ مجاز بنایا ہے ۔
۸:- مولانا عبدالقادر صاحب شاذلی ،قادری (جو ملک شام حلب کے رہنے والے تھے)نے مکہ مکرمہ میں سلسلہ قادریہ میں تحریری خلافت مرحمت فرمائی ۔
۹:- حضرت مولانا شاعون احمد صاحب پھلواری شریف پٹنہ (بہار)نے حزب البحر کی اجازت کے ساتھ ساتھ خلا فت مرحمت فرمائی ۔
۱۰:- حضرت مولانا ابوالحسن علی ندویؒ سے بھی شہر اندور میں ایک ملاقات کے دوران سے بیعت ہوکران سے بھی استفادہ کرتے رہے۔
۱۱:- حضرت مولانا محمدطلحہ صاحب مدظلہ نے حضرت کو سہارنپور میں رمضان میں قیام کا حکم فرمایا اورحضرت نے بھی تعمیل حکم فرمایا تو آپ نے حضر ت کے مجاہدہ اور دیگر صلاحیتوں کو دیکھ کر بڑے متأثر ہو کر مفتی صاحب کو خلافت مرحمت فرمادی ۔
۱۲:- حضرت مولانا محمد اسماعیل صاحب واڑی گجرات (انڈیا )کے ․ ولک․ ون ،انگلینڈنے تحریری خلافت مرحمت فرما دی۔
۱۳:- نیز مولانا فضل الحق صاحب نے حضرت کو فون پر اطلاع دی ہے کہ ان کے والد محترم پیر مولانا محمد اسماعیل صاحب واڑی گجرات (انڈیا )نے کے ولک ون ،انگلینڈ نے بھی انکے سامنے آپ کوخلافت مرحمت فرمادی ہے ۔ ( الحمد للہ علی ذلک،ھذا فضل اللہ یوتی من یشاء من عبادہ)۔
(نوٹ :ابھی تک حضرت نے بھی ۱۶مریدین کو خلافت مرحمت فرمائی ان میں سے حضرت کا سب سے اجل خلیفہ حضرت ہی کے اہم استاذمحترم حضرت مولانا نصیر احمدخانصاحبؒ سابق شیخ الحدیث وصدر المدرسین دارالعلوم دیوبندہیں جو ہمارے حضرت کے استاذ بھی تھے تب بھی اپنے شاگرد سے بیعت ہو ئے اور حضرت نے بھی بیعت کرکے فورا خلافت بھی مرحمت فرمادی )

حضرت مفتی صاحب مد ظلہ کی ا ولاد

(۱)محترمہ نور النساء ۱۹۵۹؁ء مدظلھا(۲)محترمہ سعید النساء ؒ ۱۹۶۰؁(مرحومہ)(۳)محترم مولوی الحاج عبد العزیزصاحب مد ظلہ ۱۹۶۰ء؁(نائب صدروامام وخطیب وناظر عمومی جامعہ اسلامیہ عربیہ ترجمہ والی مسجد ) (۴)محترم مولانا الحاج عبدالمجید صاحب سالار مدظلہ ۱۹۶۱؁ء ناظم مدرسہ حسینیہ وصدر ال ایم ․پی تنظیم ائمہ مساجد(۵)محترمہ صالحہ خانم مدظلھا ۱۹۶۲؁ء(۶)محترمہ حبیبہ خانم مدظلھا ۱۹۶۴؁ء(۷)محترم صاحبزادہ عبد الرشید صاحب مدظلہ ۱۹۶۵؁ء(۸)محترم مولاناعبد الودودصاحب قاسمی مدظلہ ۲۰ ؍جنوری ۱۹۶۹؁(۹)محترمہ آفتاب جہاں صاحبہ مدظلھا۱۹۷۶؁ ء(۱۰)محترم مولوی عبدالرقیب صاحب مدظلہ۱۹۷۷؁ء(۱۱)محترم حاجی محمد محمود صاحب مدظلہ۱۹۷۸؁ء(۱۲)محترمہ سلمیٰ خانم صاحبہ مدظلھا۱۹۷۹؁ء (۱۳)محترمہ اسماء صاحبہ مدظلھا ۱۹۸۰؁ء(۱۴)محترم مولانا محمد احمد صاحب مدظلہ۲۰دسمبر ۱۹۷۶؁ء ناظم جامعہ وسکریٹر ی جمعیۃ علماء مدھیہ پر دیش (۱۵)محترمہ زہراء خانم مدظلھا ۱۹۸۱؁ء(معروف چھٹن)(۱۶)محترم حافظ محمد آصف صاحب مدظلہ۱۹۸۳؁ء۔

آپ جن عہد وں پر فائز رہیں ان میں چند یہ ہیں

٭ایم ․پی کے ام المدارس جامعہ ترجمہ والی کے بانی اورسرپرست اعلی ہیں۔ ٭فی الحال آپ رئیس جامعہ اسلامیہ عربیہ مسجد ترجمہ والی کے عہدے پر فائز ہیں۔ ٭امیر شریعت ایم ․پی۔٭قاضی شریعت ایم․پی۔٭سرپرست اعلی تنظیم ائمہ ومساجد دہلی۔ ٭مفتی اعظم ایم ․پی ۔٭ممبر ورکنگ کمیٹی آل انڈیا جمعیۃ علما ء دہلی ۔٭نائب صدر جمعیۃ علماء ہند ۔٭صدر جمعیۃ علماء ایم ․پی ۔٭فری ڈم فائٹر۔ (مجاہد جنگ آزادی ) ـــــــــــــــــــــــــــــــ٭سابق ممبر
سینٹرل وقف کونسل دہلی ۔ (سابق )٭پختون جرگاہ ہند صدر رہے ۔(سابق)٭۱۴۳۳؁ھ مطابق ۲۰۱۲؁ء کو حضرت مفتی صاحب مدظلہ کو تاحیات جمعیۃایم ․پی کاصدر منتخب کیا گیا ۔(مزید تفصیل کے لیے ’’مفتی عبدالرزاق :حالات وخدمات‘‘دیکھئے۔باہتمام :مولانا محمد احمدخانصاحب ناظم جامعہ اسلامیہ عربیہ

صدر کا پیغام

آج کے اس آزمائشی دور میں امت مسلمہ کا یہ فرض ہے کہ وہ خود کو دینی تعلیمات سے پوری طرح وابستہ کرلے۔ دینی اور دنیوی تمام معاملات میں اسلام کی جیتی جاگتی تصویر اور نمونہ بن جائے، ایسی تصویر اور نمونہ کہ ساری دنیا اسے رشک کی نگاہوں سے دیکھنے لگے اور اس کی ذات اپنے اپنے غیر مسلم بھائیوں کی نظروں میں قابل احترام بن جائے۔ ساری دنیا کو آج حق اور روحانیت کی شدید تلاش ہے۔ اسلام کے دامن میں اسے نورانیت نظر آرہی ہے اور قرآنی تعلیمات دلوں میں گھر کرتی جارہی ہیں ۔ آپ یقین رکھیں وہ دن زیادہ دور نہیں ہے کہ ’’ورایت الناس یدخلون فی دین اللہ افواجا‘‘ اور تم دیکھوگے لوگوں کو داخل ہوتے ہوئے اللہ کی دین میں جوق در جوق کا روح پرور منظر آنکھوںکے سامنے ہوگا۔